فطری توازن

 کبھی اڑتی چڑیا دیکھی ہے؟ کبھی تیرتی ہوئی مچھلی دیکھی ہے؟ 

 چلیں چھوڑیں آپ نے درخت دیکھیں ہیں؟ پھول تو دیکھا ہی ہوگا؟ فجر کے بعد آسمان کے رنگ سیاہ سے جامنی، جامنی سے نیلا، نیلے سے سبز، سبز سے سفید پھر زرد اور بلاخر نارنجی۔ کیا خوبصورت عمل ہے۔ عمل کیا ہے، صبح ہونا ایک مسحورکن تبدیلی ہے۔ کیا چاندنی رات میں روشنی دیکھی ہے جو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ ہممم، دریا کی تگیانی میں ہم آہنگی جو بہتا چلا جاتا ہے۔ برستی بارش کی ٹپ ٹپ۔ صحرا کی ریت پہ بنے نقش و نگار۔ پہاڑوں کا نظم و ضبط۔ میدانوں کا سکوت۔ پرندوں کی آوازوں کی اونچ نیچ، جانوروں کے طبقات، غرض ہر شے خاموشی میں چیخ رہی ہے کبھی خاموشی سنیے گا۔.

میں ہر دفعہ بتاتی ہوں، آج پوچھوں گی۔ دل تھام کے رکھیے گا۔ آج کوئی وعظ نہیں سناؤں گی۔.

فزکس کی پوٹینشیل انرجی والی تھیوری پڑھی ہے۔ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایک وجود میں محود پوٹینشیل ہے۔ اور جب وہی وجود موشن میں آجاتا ہے، تو اسکی پوٹینشیل انرجی، کائینیٹک انرجی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہے نہ امیزنگ؟ نہیں! چلیں میں سمجھاتی ہوں کیسے۔

اکثر لوگ مارک زکربرگ، اسٹیو جابز، بل گیٹس جیسوں کی مثال دیتے ہیں۔ اور انکے خیال میں یہ بہت کول ہے، ایک جیسے کپڑے پہن کر لوگوں کے سامنے مرکزِ نگاہ رہنا۔ کچھ کہتے ہیں کے امیر ہوگئے لیکن اندر کی غربت نہیں گئی۔ اور کچھ کا کہنا ہے کہ کنجوسی کے ہاتھوں کپڑے نہیں خریدتے۔ قوی ممکن ہے تیس دن کے حساب سے ایک ہی رنگ کی تیس ٹی-شرٹس اور جینس رکھتے ہوں، لیکن انہیں یوں رہنا پسند ہو۔ اب یہاں ایک نقطۂ آغاز ہے کہ یہ جو لوگ بظاھر غریب نظر آتے ہیں، حقیقتاً باقی دنیا ان کی وجہ سے غریب ہے۔ فزکس کی تھیوری یہاں پہ عمل میں آتی ہے۔ یہ لوگ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل سے خود کو آزاد کرکے بڑے مسائل کے لئے خود کو تیّار کر لیتے ہیں۔.

“بری منزل کا مسافر چھوٹے جھگڑوں میں نہیں پڑتا۔” 

واصف علی واصف

یہ لوگ چھوٹے چھوٹے مسائل پہ اپنے پوٹینشیل کو لگانے کے بجائے بڑے مسائل پہ سرف کرتے ہیں۔ انرجی انکی محدود ہی رہتی ہے لیکن سہی سمت میں لگانے کی بدولت وہ لامحدود نتائج دینے لگتے ہیں۔

w=f.d

w=work, f=force, d=direction

سہی ڈائریکشن میں لگائی گئی فورس/انرجی سہی نتائج دیتی ہے۔.

کیا آپ اس تھیوری سے انکار کر سکتے ہیں؟

اب اگر کوئی مسلمان یہ کلیم کردے کے بھن وہ تو کافر ہیں اور ہم مسلمان۔ وہ کافر ہو کے کامیاب ہیں اور ہم مسلمان ہو کر مار کھا رہے ہیں۔

 تو انکے لئے میرا معصومانہ جواب، کیا کبھی کسی کے لئے قانون فطرت تبدیل ہوتے دیکھیں ہیں؟ gravity کے قانون کے خلاف اڑنے لگیں، نتیجہ صفر. سبھی کے لئے وہ قوانین ایک ہی رہیں گے۔ جو انکے مطابق اپنی زندگی میں عمل کریگا وہ کامیاب ہوگا اور باقی۔۔۔

مجھے آپ حیرت زدہ دیکھ رہے ہیں۔ حیرت کے بجاۓ دل تھام کے بیٹھیں کیونکہ میں نے ابھی سائیکالوجی نہیں چھدیتی۔

کچھ عرصے پہلے ایک نئی ٹرم سائیکالوجی اور سوشیالوجی میں متعارف کروائی گئی ہے۔ “فیصلے کی تھکاوٹ” کے نام سے۔ اس کا پسِ منظر ہی یہی ہے کہ جب انسان کوئی فیصلہ کرتا ہے، پھر دوسرا فیصلہ اور پھر یونہی فیصلہ در فیصلہ۔ اس کے نتیجے میں انسان کے اندر فیصلہ کرنے کے قوت آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوئے ختم ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

جیسے آپ نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہوگا جو اپنے کپڑوں سے لے کر کمرے کی سیٹنگ ہر چیز کا فیصلہ لمحوں میں کر لیتے ہیں، لیکن زندگی کا کوئی بڑا فیصلہ کرنے میں انتظار دِنوں سے لیکر مہینوں پہ محیت ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو جو چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں نہیں پڑتے انکے پندرہ بیس دنوں کے کپڑے پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ لیکن ان سے کسی بڑے مسلے میں فیصلہ لینا ہو تو وہ لمحوں میں حل بتا دیں گے۔

اسکی مثال یوں ہے کہ آپ کے پاس پیسے ہوں۔ آپ بازار جائیں۔ وہاں بازار کی رونق آپکو مجبور کریگی کے آپ سب کچھ خرید لیں یا سب کچھ نہیں تو کم از کم جتنے پیسے ہوں ان سب کا کچھ خرید لیں۔ لیکن نہیں۔ آپ جتنے بھی بیوقوف ہوں، لیکن آپ یہ حرکت نہیں کرینگے۔ آپ سب کچھ نہیں بلکہ پورے پیسوں کی اشیاء نہیں خریدیں گے۔ آپ سمجھداری دیکھائیں گے۔ ہے نہ؟

حاصلِ عرض، یہاں یہ تھیوری بتانے کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ معلومات کو زیرِ بحث لانا تھا۔ بلکہ آپ نے کچھ محسوس کیا؟ نہیں کیا؟ کیں نہیں کیا؟ کیا آپ نے محسوس نہیں کیا کہ قدرت کتنی متوازن ہے؟ وہ سب کو سب کچھ دیتی ہے لیکن سب کچھ نہیں بھی دیتی۔

وہ فائز حسن سیال کہتے ہیں، زندگی مٹھائی کی پلیٹ ہے۔ کسی کے پاس مکس پلیٹ ہے، کسی کے پاس کوئی مخصوص مٹھائی ہے، کسی کے پاس کوئی دو یا شاید تین۔ پلیٹ تبدیل نہیں کی جاسکتی لیکن اپنی دے کر کسی سے اسکی تھوڑی مٹھائ لی جاسکتی ہے۔

ہر شے ہی توازن میں ہے۔ محسوس کیجئے، سمجھیئے. قانونِ فطرت سب ہی کے لئے ایک ہی رہیں گے۔ جو انکے مطابق چلے گا وہ کامیاب ہوگا۔ لیکن مسلمانوں خوش ہونا چائے کہ ویسٹ اب جان رہا ہے، وہ ہمیں پہلے ہی بتا دیا گیا ہے۔ سہی سے دین پہ عمل کریں تو ہم ویسٹ سے کئی گناہ آگے نکل سکتے ہیں۔ دین کی روح ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔.

قدرت کی نشانیاں ہر طرف پھیلی ہیں، غور و فکر سے ہم وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ 

 آمین۔

What’s your favorite way to waste time?

Time… Time is great wealth, which once lost never came back. It’s just like an ice bar which once melted never regain it’s shape until and unless it gains another life in freezer. So, we all know that we had only one-single life and time we are wasting in sharing memes or finding a perfect picture for insta story, never came back.
One thing more we also know the great importance of time by learning essay on “importance of time” in every grade from grade one. But the interesting point is that we still don’t know about the great importance of time. There I want to add one more thing that wasting time is also of two types.
First one is to waste time and second one is also to waste your precious time but your spare time.

The first one we are wasting in scrolling Facebook, looking for memes and finding a perfect picture for insta story. Impressing ourselves from celebrities and following irrelevant people and sites with no concerns to us. Texting people instead of calling them. Daydreaming to be a topper or to be enough rich, so no need to study. Scrolling apps for no reason. Playing pubg or other games all day. Discussing politics, people and events. Taking several naps all day. Always remain thirsty and hungry. Waiting for your wardrobe to tell you what to wear. Taking long showers. Always partying. Participating in get-togethers which is just limited to social media and selfies. Making ourselves dummy to impress others. Watching television just for shitty shows. Sipping tea, coffee and eating food at the slowest speed ever. Arguing with people on their ideas with no sense and information just to impress others. Watching pranks and stupid comedy shows on YouTube.

But the point is the time you are wasting you can also spend those time by choosing healthy options like watching documentaries or listening to podcasts and audiobooks. Learning a new skill and language. Reading books (fiction or nonfiction). Spending quality time with friends and family. Write your heart, anything you want. Exercising, gardening, craft work, outdoor activities anything interesting you like.
You can’t waste time, you can only waste energy. This is not a commodity that you use or store or to take advantage of. You can take time to relax, think of what pleasures you enjoy, decide to be happier. And that is not a waste of energy, it is the constructive use of energy.

” Killing time is murdering success.”

اصلاحِ زات

اصلاحِ زات ہی تعمیرِ انسانیت ہے۔ کسی بڑی تبدیلی کے لیے چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ چاہے زات کی تبدیلی ہو یا افراد کی یا ملک و قوم کی۔ اصلاح ضروری ہے۔ کوٸ بھی فرد یا قوم مکمل نہیں، اصلاح کی گنجائش ہر صورت رہتی ہے۔ جو افراد و اقوام وقت کے ساتھ اصلاح اور جدّت لاتے رہتے ہیں وہ کامیاب و کامران اور باقی بےنام و نشان ہو جاتے ہیں۔
کسی قوم کا حال جب تک نہیں بدل سکتا جب تک کہ وہاں انفرادی طور پر اصلاحِ ذات نہ ہو۔ اصلاح ِ ذات اور اصلاح قوم ہر فرد و قوم کی بنیادی ضرورت ہے۔ جن کی شخصیت ہمارے گرد سحر قائم کر دیتی ہے وہ بھی ماضی میں کبھی اصلاح کرتے ہیں تو ہم ان کا حال خوشنما اور خوشحال دیکھتے ہیں۔ آج کی گٸ اصلاح ہمارے مستقبل کو تابناک بنا سکتی ہے۔

آج پاکستان میں ہر فرد انفرادی و اجتماعی اصلاح  کر لے، تو جلد ہی پاکستان ترقی کی منازل طے کر لے گا۔ فرداً فرداً اصلاح ہو جاۓ تو انفرادی اصلاح،  اجتماعی اصلاح کا باعث بن سکتی ہے۔ یوں اجتماعی اصلاح قوم اور اور پھر ملک سنوار سکتی ہے۔ اصلاح ضروری نہیں کوئی بڑی اصلاح ہو، بلکہ یہ تو زات میں چھوٹی چھوٹی خوبیاں پیدا کرنے سے بھی ہو جاتی ہے۔ کچھ خوبیاں پیدا کرنے سے ہو جاتی ہے۔ کچھ لمحات میں جذبات پر قابو پانے سے ہو جاتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر مثبت خوداعتمادی سے۔  اصلاحِ زات ِسرے سے ہی انسانی شخصیت کو نکھار دے دیتی ہے اور اقوام کو بہتر سے بہترین بنا سکتی ہے۔

Self Actualization

Allah has created the entire universe, which is not less than a mystery and far away from our imaginations. The creation of mankind is a remarkable reality. Which can’t be changed. Allah says in the Quran,

“The creation of the heavens and the earth is indeed greater then the creation of mankind; yet, most of mankind know not.

Man has superiority on every creation and there is some reason behind this superiority. There is always a solid and a mysterious reason behind every decision of Allah. And we as a superior creature are unable to questioned why? Every individual at some point asks some questions which are related to our creation.

Why was I created? Why am I here? What am I doing in this world? Why did God create me?

This mysterious world is going under revolution by solving the mystery by humans. We have to live our lives and interact with the society, people, surroundings, atmosphere etc. Life is not a smooth road that we can easily find it’s secrets but there is a shortcut to find it’s secrets, mysteries, puzzles and that is self discovery.

Self Discovery or self actualization to know our inner selves where God has hidden the secret of life, secret of universe, secret of ourselves and infact God is also hidden in our selves. The morality of our life, secret of our life, is hidden inside our hearts. Self Discovery is a complicated journey where we once fasten our seatbelts and the journey is never ending. The part of the journey is filled with stones of difficulties, miles of problems and hardness of weather. People get everything in their lives except their selves. That’s why, people remain happy in the comfort zones.
There is element in element in everyone, but they don’t find it, maybe they don’t know. Sufism and philosophy both says about building relationship with the soul. For building relationship with the soul every individual has to break the shackles. Worldly shackles are in the form of basic human needs for in the face of worldly desires. The person in search of self, closes his eyes for the colours of this world. This philosophy is not limited for Sufism but it also increased and expanded by modern psychology. One has to work for his basic needs it’s human nature, but to leave his desires open only it’s a big dig in front of his route. It’s a difficult task that even people of strong focus and hard decisions are also distracted. People of this journey are special ones and those who are God gifted. Its a journey infact not the final stop.

“Three things are hard in this universe; iron, diamond and self disovery.”       

                            Benjamin Franklin

Because we are superior creature and is necessary for us to find why we are superior. To travel this journey is infact acknowledgement of Allah, who gives this superiority as a blessing. The journey is linked with travel and fortune but self discovery is not limited it’s unstoppable and never ending, its a mysterious journey and passengers are soul finders and this mysterious Sufism takes them to their journey. The real finders of inner self started his journey without knowing the destination. The one who wants his inner self has this mindset. Because it’s hidden under many layers. 
Self awareness shows it’s importance by itself and makes you able to decide what to do? It increases decision capability and makes you feel better and lighter. You become self aware and make other’s lives  happy and easy. You become secure and also makes other’s secure too. 
No one can ever find himself completely because man is like rings of onion. Human is like enigmatic bud. Allah has created man with this system. To set destination in this journey is not possible. Self discovered man can never felt for world and desires. He can never work for his worldly fame. Self Discovery makes a man unaware of two things respect and criticism. Experience, self discipline, knowledge, soul discipline are things for self Discovery. 

Man is Unlimited…

Create your website with WordPress.com
Get started